مگر شام ہی تو ہے! - Aatqa Ali

چلیں آج میرے ساتھ اپنی زندگی دہرائیں اور یاد کریں کہ آخری بار کب خود سے محبت کا اظہار کیا تھا ……؟ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں سے اظہار محبت سننے کی خواہش رکھتا ہے۔ مگر یہ کیوں نہیں سوچتا کہ اگر ہمیں اپنے آپ سے محبت نہیں تو کوئی اور ہمارے لئے یہ احساس کیسے رکھ سکتا ہے! اور اگر محبت ہو بھی تو کیا ہم اسے محسوس کر پائیں گے؟ پھر اس تصویر کا دوسرا رُخ دیکھیں تو جو چیز ہمارے پاس موجود ہی نہیں، وہ ہم کسی اور کو کیا دینگےیعنی اگر خود سے محبت نہیں تو دوسروں سے محبت کا دعوہ کیسا!!!


تو اب نئے سِرے سے شروعات کریں اور دوسروں سے پہلے خود سے محبت کرنا سیکھیں۔ خود اپنی ذات کی قدر کریں۔ آج کی اس تیز رفتار دنیا میں ہم بہت جلد دوسروں کی ظاہری امارت اور شخصیت سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ بظاہر اس میں کوئی برائی نہیں کیونکہ ممکن ہے اس طرح ہمارے اندر بھی آگے بڑھنے کی لگن پیدا ہو۔ لیکن کسی سے متاثر ہونے اور کسی کی ذہنی غلامی اختیار کر لینے کے درمیان ایک باریک لکیر ہے اور ہم وہ لکیر کب پار کرجاتے ہیں اس کا ہمیں احساس نہیں ہوپاتا۔ اور جب یہ فرق مِٹ جاتا ہے تو ہم خود کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمیں اپنا آپ ایک ناکام وجود لگتا ہے جو کسی اور کی کیا، خود اپنی محبت کے بھی قابل نہیں۔

Source: https://beautyandwellbeing.com/well-being/sustainable-self-love/

کیا یہ پڑھنے کے بعد آپ کو بھی لگتا ہے کہ آپ نے دوسروں کی ذات کو خود پر حاوی کر رکھا ہے؟ کیا آپ بھی خود سے مایوس ہیں؟ تو آج سے ہی خود کو اس غلامی سے آزاد کریں۔ خود کو یہ یاد دلائیں کہ آپ کیسے اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ کیا آپ کو اپنی پوری زندگی میں کچھ بھی ایسا قابل قدر نہیں لگتا کہ آپ خود کو بھی اپنی محبت کے قابل سمجھیں! اور پھر خود سے یہ مایوسی آخر کس لئے ہے؟ صرف اس لیے کہ ہم وہ حاصل نہ کر سکے جو کرنا چاہتے تھے یا ہم سے ماضی میں کوئی ایسی غلطی ہوگئی ہے جس کا مداوا شاید ہماری نظر میں اب ممکن نہیں۔ اس مایوسی اور نا امیدی کی ایک بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے خود سے محبت کرنا چھوڑ دی ہے۔ ہم دوسروں میں اپنی محبت بانٹتے بانٹتے یہ بات بھول گئے کہ ہم خود بھی اپنی محبت کے حقدار ہیں۔


جب انسان مایوس ہوتا ہے تو اس کو کسی اور کی محبت بھی ہمدردی میں ملی بھیک لگتی ہے۔ ایسے میں وہ اکثر دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا دیتا ہے ۔ خود سے مایوسی ہمیں سب سے دور کردیتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے مایوسی کو کفر کے برابر کہا ہے۔ یہ انسان کو ایک ایسی اندھیر نگری میں پہنچا دیتی ہے کہ اردگرد کی ساری روشنی ماند پڑ جاتی ہے۔ ہم میں سے کسی کی زندگی پھولوں پر نہیں گزرتی کہ ہم یہ توقع رکھیں کہ کوئی بھی